ایرانی سپریم لیڈر معاہدے پر راضی ہیں، دستخط کی تقریب یورپ میں ہونے کا امکان ہے: ٹرمپ کا دعویٰ

SerialKiller

فوٹو: فائل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی کے بعد ایران پر طے شدہ حملے روکنے اور معاہدہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی دستاویزات آخری مرحلے میں ہے، معاہدے پر جلد دستخط متوقع ہیں۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہفتے کے اختتام پر ہوسکتے ہیں، دستخط کی تقریب یورپ میں ہونے کا امکان ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ امریکا ایران معاہدے پر دستخط کی تقریب میں جے ڈی وینس شریک ہوں گے، دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمزکھول دی جائے گی،سب اس پرخوش ہیں، پور امشرق وسطیٰ بھی اس پرخوش ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں ایرانی سپریم لیڈر معاہدے پر راضی ہیں، مجھے یقین ہے ایرانی سپریم لیڈرامریکا ایران معاہدے کی منظوری دے چکے ہیں۔ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا پائے گا۔

اس کے علاوہ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امن معاہدے میں پاکستان بہترین کردار ادا کر رہا ہے، وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل عظیم شخصیت ہیں ۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معاملے پر اسرائیل سے بھی بات کی ہے۔

اس سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت اعلیٰ ترین سطح تک پہنچ چکی ہے اور اس کی منظوری بھی دی جا چکی ہے، جس کے بعد انہوں نے بطور صدر حملے روکنے کا فیصلہ کیا۔

2026-06-12

ایران اور امریکا کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی مسودے کی تفصیلات سامنے آ گئیں

جینیوا میں امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کی تقریب کی میزبانی پاکستان کریگا: وزیراعظم

مردان: پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ گرکر تباہ، 2 پائلٹ شہید

امریکا ایران معاہدے کی تقریب میں وزیراعظم شرکت کرینگے: ذرائع

آج سے پہلے اگر پنڈی اسلام آباد میں اتنا تعاون ہوتا تو کئی عالمی اعزاز مل چکے ہوتے: خواجہ آصف

کسی تاجر کا طرز زندگی ظاہر آمدنی کے برعکس شاہانہ ہوا تو اس کا آڈٹ ہوگا: چیئرمین ایف بی آر

صدر زرداری کی اٹھارہویں ترمیم نہ ہوتی تو کسی شہر میں اورنج ٹرین ہوتی نہ کہیں میٹرو بس چلتی: بلاول

کرکٹ ورلڈ کپ 2025 کی تیاریاں تیزی سے جاری

شمالی علاقہ جات میں برفباری کا نیا سلسلہ شروع

کراچی میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی، رپورٹ جاری

جرمنی کا ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ

امرکا کا آپریشن فریڈم میں 15 ہزار فوجیوں کو تعینات کرنے پر غور

×