فوٹو: فائل
اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے اہم ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں آئندہ بجٹ میں عوام کو متعدد شعبوں میں سہولت ملنے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کو عوام کو درپیش معاشی مشکلات اور مہنگائی کے اثرات سے آگاہ کیا اور انہیں ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت پر قائل کیا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے پر آمادہ ہو گیا ہے، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف اس طبقے کے لیے 60 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے مستحقین کے وظائف میں اضافے کی تجویز پر بھی رضامندی ظاہر کر دی ہے، جس سے کم آمدنی والے خاندانوں کو مزید مالی معاونت مل سکے گی۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے سولر پینلز اور سٹیشنری اشیا پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کے مطالبے سے بھی دستبرداری اختیار کر لی ہے، جس سے ان اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ کم ہو گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سولر پینلز اور سٹیشنری پر سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد برقرار رہنے کا امکان ہے، جسے عوام اور کاروباری طبقے کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ان تمام تجاویز اور ریلیف اقدامات کی حتمی منظوری اور تفصیلات کا اعلان وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کے وقت متوقع ہے۔











